عام آدمی پارٹی ناندیڑ کاعظیم الشان احتجاجی مظاہرہ ۔ناندیڑ بلدیہ عظمیٰ کے گزشتہ دس سالوں کے کا م کاج کی سی بی انکوائری کرنے کا مطالبہ
ناندیڑ:6؍فروری ( ایس او نیوز)ناندیڑ شہر میں گزشتہ دس سالوں میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے ہزاروں کروڑ روپیوں کا فنڈ ناندیڑ شہر میں ترقیاتی کاموں کے لئے آیا تھا ۔ لیکن ان پیسوں کا استعما ل ایمانداری سے نا کرکے شہر کی موجودہ سیاسی قیادت نے بلدیہ عظمیٰ کے افسران کے ساتھ مل کر بدعنوانی کی کوئی نظیر باقی نہیں رکھی۔ لیکن بد عنوانی کے ان معاملات نے سنگین رخ تب اختیار کر لیا جب یہ اپنی انتہا کو پہنچ گئے ۔ ۱۱ لاکھ روپئے کے ابتدائی پروپوسل میں اسٹیڈیم کی تعمیر کے کام کو بغیر کوئی ٹینڈر کی شرطوں کو پورا کئے بنا افسران اور سیاسی نمائندوں نے ملی بھگت کر اپنے نزدیکی کنٹراکٹر کو دے دیا۔ جس کے بعد حد تو یہ ہوگئی کے یہ کام جو کے اب تک نامکمل ہے اس کام کے لئے ا کروڑ سے زائد رقم اس کنٹرا کٹر کو ادا کر دی گئی ہے۔ جو کے قانون کے خلاف ہے۔ ساتھ ہی دیگر ایسے کئی سنگین معاملے ہیں جو منظر عام پر آئے جس کے بعد ان معاملات کی انکوائر ی کے حکم وزیر آعلیٰ نے دےئے ۔ جس کے بعد وزیر آعلیٰ کی ہدایت پر نئی ممبئی کے ایماندار اور بے باک کمشنر تکارام منڈے نے ناندیڑ شہر کادو مرتبہ دورہ کر اپنی جانچ رپورٹ چند ہفتہ قبل حکومت کو سونپ دی۔ بتایا جاتا ہے کے اس رپورٹ میں ناندیڑ بلدیہ عظمیٰ کے بدعنوانی کے کئی ثبوت موجود ہیں اور چند بڑے افسران اور ایگزیکیٹیو انجینیر پر کاروائی کئے جانے کے امکانات ہیں ۔ لیکن حکومت کی جانب سے اس رپورٹ کو منظر عام پر نہیں لایا جارہا ہے ۔ عام آدمی پارٹی کے مراٹھواڑہ کنوینر فاروق احمد نے الزام عائد کیا کے ہو سکتا ہے اس دیر کے پیچھے حکومت ان خاطیوں کو بچانے کی سازش کر ہی ہو گی ۔ انھوں نے مزید کہا ہے کے میونسپل کارپوریشن میں گزشتہ دس سالوں میں جو بد عنوانیاں کی گئی ہے جو گھوٹالے ہوئے ہیں وہ آدرش گھوٹالے کے اعداد و شمار کے مقابلے میں دس گنا سے بھی زیادہ ہیں.عام آدمی پارٹی نے وزیرآعلیٰ کے نام دئیے اپنے محضر میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کے ناندیڑ بلدیہ عظمیٰ کے 2006 سے 2016 تک کے سبھی کاموں کی سی بی آئی انکوائری کی جانی چاہیے اور بلدیہ عظمیٰ کی جانب سے ہوئے تمام مالی لین دین کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ،ساتھ ہی تکارام منڈے کی رپورٹ کو جلد از جلد منظر عا م پر لاکر خاطیوں پر جلد از جلد کاروائی کرنے کی بھی مانگ کی گئی ہے ۔اس احتجانی مظاہرے کو کمینوسٹ پارٹی آف انڈیا(م )، پاپولرفرنٹ آف انڈیا،بھارتیہ مراٹھا مہاسنگھ، اکھیل بھارتیہ او بی سی سنگھٹنا اور تنظیم انصاف نے بھی تائید کی ہے۔ احتجاجی مظاہرہ میں فاروق احمد ، سروج تائی پیٹھے ، شیخ بلال، اودھوت پوار، محمد قاسم،گوندساؤکار ، سید عقیل، شریدھر کامبلے ،اسلم چاؤش، شیکھر پوپولوار،راہیل شیخ ، محمد اشرف مومن ، ڈاکٹر اکبر شیخ، فرحان قریشی ،شہزاد جعفری،عامر ارسیل،محمد کلیم،محمد عرفان، راجیش کوکاٹے ، سید مشتاق ،فہیم فاروقی ، عبدالمجیب ، غلام احمد،محمد شعیب،شیخ اختر ، محمد زبیر ، محمد خان، فیض الدیں صدیقی و انیل راؤت کے ساتھ ساتھ عام آدمی پارٹی کے سینکڑوں کارکنان موجود تھے ۔